بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی ماموں سے نکاح کرنا حرام ہے

سوال

دو بھائی ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں،  ایک بھائی کے بیٹی نے دوسرے بھائی کے بیوی کا دودھ پیا  ہے، اب دونوں بھائی کے بیٹا بیٹی  آپس میں رضاعی بھائی بہن بن گئے ہیں۔ دونوں کا  آپس میں نکاح جائز نہیں ہے ۔

اب  جس عورت کا دودھ بیٹی نے  پیا ہے،  اس کے بھائی کے ساتھ اس کا  نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟  یعنی رضاعی ماموں سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟

آپ ہمیں قرآن پاک و حدیث نبوی صلی اللہ وسلم کے روشنی میں جواب دیں تاکہ دونوں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عمل کر سکیں۔

جواب

واضح رہے کہ جس طرح سے ماموں سے بھانجی کا نکاح حرام ہوتا ہے، بالکل اسی طرح رضاعی ماموں سے بھی حرام ہوتا ہے، لہذا  صورت مسئولہ میں  مذکورہ لڑکی کا نکاح اس کے رضاعی ماموں سے کرنا شرعا حرام ہوگا۔

صحیح البخاري میں ہے:

" ٥٢٣٩ - حدثنا ‌عبد الله بن يوسف: أخبرنا ‌مالك، عن ‌هشام بن عروة، عن ‌أبيه، عن ‌عائشة رضي الله عنها أنها قالت: «جاء عمي من الرضاعة فاستأذن علي، فأبيت أن آذن له حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألته عن ذلك، فقال: إنه عمك، فأذني له قالت: فقلت: يا رسول الله، إنما أرضعتني المرأة ولم يرضعني الرجل، قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه عمك، فليلج عليك. قالت عائشة: وذلك بعد أن ضرب علينا الحجاب. قالت عائشة: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة»."

( كتاب النكاح، باب ما يحل من الدخول والنظر إلى النساء في الرضاع، ٧ / ٣٨، ط: السلطانية )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100183
تاریخ30-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں