بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شہر کی حدود سے فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہے

سوال

 میری بہن کا گھر گوجرانوالہ میں ہے۔ میرے گھر سے بہن کے گھر تک کا فاصلہ 88 کلومیٹر ہے۔ لاہور شہر کی حدود شاہدرہ ٹاون کے ختم ہونے پہ ختم ہو جاتی ہے۔ وہاں سے بہن کے گھر کا فاصلہ 60کلومیٹر ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی  فرما دیں کہ کیا میں بہن کے گھر جا کر قصر پڑھوں گا یا پوری؟ بعض لوگ کہتے ہیں کے مسافت سفر گھر سے اگلی منزل تک ہو گی۔ بعض کہتے ہیں کے شہر کی حدود کے ختم ہونے سے منزل تک کے سفر کا اعتبار ہو گا۔

جواب

واضح رہے کہ شرعی مسافتِ  سفر  سواستتر کلومیٹر ہے،  اور  اس کا شمار  شہر/ بستی کی آبادی کے آخری گھر سے ہوگا، لہٰذا اپنے شہر سے باہر اگر 77.24 کلو میٹر یا اس سے زیادہ دور جانا ہو تو آدمی شرعی مسافر بنتا ہے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ  آپ کے شہر کی حدود سے منزل مقصود کا فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہے ؛اس لئے   آپ گوجرانوالہ میں اپنی بہن کے گھر جانے کی صورت میں شرعی مسافر نہیں ہوں گے بلکہ پوری نماز پڑھیں گے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي) بيان للموضع الذي يبتدأ فيه القصر ولشرط القصر ومدته وحكمه أما الأول فهو مجاوزة بيوت المصر لما صح عنه - عليه السلام - «أنه قصر العصر بذي الحليفة» وعن علي أنه خرج من البصرة فصلى الظهر أربعا ثم قال: إنا لو جاوزنا هذا الخص لصلينا ركعتين والخص بالخاء المعجمة والصاد المهملة بيت من قصب كذا ضبطه في السراج الوهاج."

(البحرا لرائق شرح کنزالدقائق، کتاب الصلوٰة ،باب المسافر، 138/2، دارالكتاب الاسلامي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144410100020
تاریخ29-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں