بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ اعتکاف بغیر اجرت کے ریاضی پڑھانے کا حکم

سوال

کیا معتکف مسجد میں بغیر اجرت کے ریاضی پڑھا سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں معتکف کے لئے مسجد  میں اجرت کے بغیر ریاضی پڑھانا  جائز تو ہے، لیکن اعتکاف  کی روح کے خلاف ہے۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"ويكره كل عمل من عمل الدنيا في المسجد، ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي".

(کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد، ج:5، ص:321، ط:مکتبہ رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101735
تاریخ13-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں