بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدوفروخت کا سودا مکمل ہونے کے بعد مارکیٹ ریٹ میں اضافہ ہونے کا حکم

سوال

خرید و فروخت کا معاملہ مکمل ہونے کے بعد ثمن کی ادائیگی سے قبل مارکیٹ ریٹ بڑھ جائے، تو بل کس قیمت کا بنایا جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان کسی چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ طے پاجائے،اور ایجاب وقبول ہوجائے تو اُس  سے بیع مکمل  ہوجاتی ہے اوربیع تام ہونے کے بعد جتنی قیمت پر معاملہ طے پایا ہو،اتنی قیمت ہی مشتری پر اداکرنا لازم ہے،مارکیٹ ریٹ بڑھنے یا کم ہونے کی وجہ سے فریقین   کے مابین متعینہ قیمت میں کمی بیشی کرنا درست نہیں ہے۔

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں ہے:

"وأما حكم البيع .... فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال."

(کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،ج:5، ص:233، ط:سعید)

"فتاوی شامی" میں ہے:

"وحكمه ثبوت الملك.

وفي الرد:(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن، ووجوب استبراء الجارية على المشتري، وملك الإستمتاع بها، وثبوت الشفعة لو عقارا، وعتق المبيع لو محرما من البائع بحر، وصوابه من المشتري."

(كتاب البيوع، ج:4، ص:506، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101625
تاریخ10-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں