بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی جگہ سے رقم کا ملنا

سوال

میں ایک اسکول میں کام کرتا ہوں عراق میں، وہاں اکثر بینچوں کے نیچے پیسے ملتے ہیں اور میں ان کے حقیقی مالک کو نہیں جانتا، کیا میں وہ استعمال کر سکتا ہوں یا حرام کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

راستے میں پڑی ہوئی رقم، ’’لقطہ ‘‘  کے حکم میں ہوتی ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو ایسی رقم ملے   تو اس رقم کی حتی الوسع تشہیر کرے، اگر تشہیر کے باوجود مالک کا پتا نہ لگے تو اس کو محفوظ  رکھے،  تاکہ مالک کے آجانے کی صورت میں مشکل پیش نہ آئے۔ اور  حتی الوسع تشہیر کے ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اگر مالک ملنے سے مایوسی ہوجائے تومالک کی طرف سے رقم کسی  فقیر کو صدقہ کردے، اور اگر خود زکات کا مستحق ہے تو خود بھی استعمال کرسکتاہے۔البتہ صدقہ کرنے یاخود استعمال کرنے کے بعد مالک آجاتاہے تواسے اپنی رقم کے مطالبے کا  اختیار حاصل ہوگا۔ 

ملتقي الأبحرمیں ہے:

"وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لو فقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء وإن كانت حقيرة كالنوى وقشور الرمان والسنبل بعد الحصاد ينتفع بها بدون تعريف وللمالك أخذها ولايجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر."

(کتاب اللقطۃ، ص:530،531،ط:دارالکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101603
تاریخ10-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں