بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیرون ملک مقیم شخص صدقہ فطر کس طرح ادا کرے؟

سوال

ایک بندہ باہرملک میں کام کرنےکےغرض سےگیااوربیوی بچےپاکستان میں ہیں۔اب صدقۃالفطر کاوقت آیا ہے تو یہاں بندہ اپنااوربچوں کافطرانہ باہر کی کرنسی میں دے گا یا پاکستانی کرنسی میں؟

جواب

 صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو گندم ہے چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے وہاں کا اعتبار ہوگا، لہذا اگر کوئی شخص بیرون ملک میں مقیم ہے اور عید الفطر وہیں کرے گا، تو اس پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر اس کے موجودہ رہائشی ملک کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا، خواہ وہ یہ قیمت وہیں ادا کرے یا پاکستان بھیج دے، یا اس کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.

(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

(كتاب الزكاة، باب  مصرف الزكاة والعشر،فروع في مصرف الزكاة، 2/355، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101535
تاریخ09-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں