بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ اولاد کے صدقہ فطر کا حکم

سوال

 باپ اپنے بالغ اولاد جب کہ غیر شادی شدہ ہوں کیا باپ پر ان کا صدقہ فطر لازم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فطرانہ/صدقۃ الفطر ہر اس شخص پرجوکہ صاحب نصاب ہوخوداپنی طرف سے اوراپنی نابالغ اولاد کی طرف سےادا کرنا واجب ہے، بالغ اولاد اگرصاحب نصاب ہوتواپنا فطرانہ خود انہی پرواجب ہے والدپرنہیں، اوراگرصاحب نصاب نہ ہوتونہ ان پرصدقۃ الفطرواجب ہےاورنہ والدپران کی طرف سےواجب ہے،البتہ اگروالدازخود بالغ بچوں کی طرف سےدےدےتویہ بھی صحیح ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا يؤدي عن زوجته، ولا عن أولاده الكبار، وإن كانوا في عياله، ولو أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا كذا في الهداية. وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان. ولا يجوز أن يعطي عن غير عياله إلا بأمره كذا في المحيط".

(کتاب الزکات،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج:1،ص:193،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101492
تاریخ09-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں