بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کو صدقہ فطر دینا

سوال

میری ایک غریب بہن ہے ،جس کا شوہر دیہاڑی دار مزدورہے، اور ان کا گزر بسر روز مرہ کی زندگی کے اخراجات تک پورے نہیں ہو پاتے ۔کیا میں اپنی بہن کو اس صورت میں صدقہ فطر دے سکتا ہوں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل کی حقیقی بہن غریب  اور زکوۃ کی مستحق ہے اور سائل کا اور اس کا کھانا پینا الگ ہے تو سائل  اپنی حقیقی بہن کو صدقہ فطر دے سکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ ‌لانقطاع ‌منافع ‌الأملاك ‌بينهم ولهذا تقبل شهادة البعض على البعض."

(كتاب الزكاة،فصل حولان الحول هل هو من شرائط أداء الزكاة،50/2،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101484
تاریخ09-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں