بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کی مقدار

سوال

 مجھے صدقہ فطر کے بارے میں معلومات چاہیے،  سعودی عرب اور پاکستان کے صدقہ فطر کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں ؟

جواب

واضح رہے کہ صدقۂ فطر  کی مقدار گندم  کے اعتبار سے  پونے دو کلو گندم یا  پونے دو کلو گندم  کی مارکیٹ کی قیمت ہے، احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت کا حساب کرلیا جائے۔ اور جو، کھجور اور کشمش کے اعتبار سے  یہی  اشیاء ساڑھے تین کلو یا ان کے ساڑھے تین کلو  کی  بازار میں جو قیمت ہے،  وہ صدقہ فطر کی مقدار ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں ان چیزوں میں سے جس جنس سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہے ،اس کی قیمت معلوم کر کے اس کے بقدر صدقہ فطر دے، اگر پاکستان میں ہے تو ان اشیاء کی پاکستانی  قیمت کا اعتبار ہو گا اور اگر سعودی عرب میں ہے تو وہاں کا اعتبار ہو گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب ."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودفع القیمة ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی به،لان العلة فی افضلیة القیمة کونھا اعون علی دفع حاجة الفقیر."

(باب صدقة الفطر،ج:2،ص:366،ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101443
تاریخ07-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں