بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی رضاع بہن سے نکاح

سوال

 عابد اور عرفان بھائی ہیں عابد نے ایک بار اپنی دادی (ابو کی امی) کا دودھ مدت رضاعت میں پیا. اب عرفان اپنے دادی کے بیٹے (چچا) کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے. (اس چچا نے جس کی بیٹی سے عرفان نے نکاح کرنا ہے اس نے عابد کے ساتھ ایک ساتھ دودھ نہیں پیا کیوں کے چچا اس وقت بڑا تھا)

جواب

صورت مسئولہ میں عرفان نے چوں کہ اپنی دادی کا دودھ نہیں پیا لہذا اس  کے لیے اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

درالمختار میں ہے:

"(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر." 

(کتاب النکاح , باب الرضاع جلد 3 ص: 217 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101420
تاریخ06-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں