بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی موت کی امانت ہے یہ جملہ کہنا کیسا ہے؟

سوال

زندگی موت کی امانت ہے" یہ جملہ کہنا کیسا ہے؟"

جواب

زندگی اور موت دونوں اللہ تبارک و تعالی کی پیدا کردہ چیزیں ہیں ،انسان جو زندگی کے لمحات لے کر آیا ہے وہ سارے کے سارے اللہ تعالی کی طرف سے امانت ہیں، ان اوقات کو اور زندگی کے لمحات کو صحیح استعمال کرنے کا انسان کو مکلف بنایا گیا ہے۔

باقی مذکورہ جملہ"  زندگی موت کی امانت ہے"  کا بظاہر مطلب یہی ہے کہ جب آدمی اپنی زندگی کی سانسیں پوری کرلے گا تو موت آجائے گی یعنی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَالْحَيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (الملک:2)"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101395
تاریخ06-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں