بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق کی صورت میں عدت لازم نہیں

سوال

کس صورت میں عدت لازم نہیں ہے؟

جواب

جب نکاح ہوجائے اور رخصتی (صحبت/ خلوتِ صحیحہ) سے پہلے طلاق ہوجائے تو اس صورت میں شرعاً عدت لازم نہیں ہوتی ہے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة.

وفي الرد: (قوله: أي صحيحة) فيه نظر، فإن الذي تقدم في باب المهر أن المذهب وجوب العدة للخلوة صحيحة أو فاسدة."

(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب العدة، ج: 3، ص: 504، ط: سعید)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

"وکل خلوۃ لایمکن معها الوطئ کخلوۃ المریض إلی فلا عدۃ، وفي الخانیة: وکذا لو طلقها قبل خلوة."

(كتاب الطلاق، الفصل الثامن والعشرون: في العدة، ج: 5، ص: 232، رقم: 7734، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101367
تاریخ06-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں