بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورہ فتح کی آیت کے ورد سے حج وعمرہ کی سعادت نصیب ہونا

سوال

 سورہ فتح کی آیت لقد صدق الله رسوله الرؤیا بالحق الخ کے بارے میں لوگوں کے درميان یہ مشہور ہے ،کہ اس کا ورد کرنے سے حج اور عمرہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔یہ بات کس حد تک صحیح ہے؟

جواب

حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیےسورہ فتح کی آیت نمبر 27  کا ورد قرآن وحدیث کی کسی نص سے ثابت نہیں ،البتہ بزرگوں کے مجربات میں سے ہے،لہذااس کو اسی درجہ میں رکھ کر ورد کرنا درست ہے،اور ان شاء اللہ یقین کے ساتھ ورد رکھنے پر اللہ تعالیٰ حج وعمرہ کی سعادت نصیب فرمائیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101366
تاریخ06-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں