بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت نہ ہو تو زکات کا حکم

سوال

میں نے چند سال پہلے 2 پلاٹ اس نیت سے خریدے کہ میری 2 بیٹیاں ہیں، اگر شادی کے وقت میرے مالی حالت بہتر ہوئے تو ان کو بطورِ تحفہ دے دوں گا ، اگر مالی حال بہتر نہ ہوئے  تو بیچ کر ان کی شادی کردوں گا، میرے لیے زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ میں نے وہ پلاٹ ایک دفعہ بیچ کر دوبارہ نئے پلاٹ اسی نیت سے خرید رکھےہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں پلاٹ خریدتے وقت چوں کہ بیچنے کی نیت  نہیں تھی اس لیے اس پر زکوۃ لازم نہ ہوگی۔

در المختار میں ہے:

"وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض."

(کتاب الزکاۃ جلد 2 ص: 267 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101333
تاریخ05-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں