بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جو مسواک بچ جائے، اس کا کیا کیا جائے؟

سوال

مسواک استعمال کرنے کے بعد جو ٹکڑا بچ جاتا ہے، اس کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

مسواک استعمال کرنا چوں کہ سنت ہے اور اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم ہے، اس لیے اس کا ادب بھی کرنا چاہیے، لہٰذا مسواک کا جو ٹکڑا  بچ جائے اور نا قابلِ استعمال ہوجائے، تو اسے کسی پاک صاف جگہ پر رکھ دیا جائے، یا مٹی میں دفن کردیا جائے، اسے  کچرے میں نہیں پھینکنا  چاہیے۔

رد المحتار میں ہے:

"الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله و ملائكته و رسله و يحرق الباقي و لا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء."

(کتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:422، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101283
تاریخ05-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں