بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات قسطوں میں ادا کرنے کا حکم

سوال

اگر میں اپنے بھائی کو زکات یک مشت نہ دوں اوررقم میں  زکوۃ  کی نیت کر کے مہینے کی قسطوں میں ادا کروں تو زکات ادا ہو جاے گی؟

جواب

 زکات کی ادائیگی جس طرح یک مشت درست ہے ،اسی طرح تھوڑی تھوڑی کرکے قسطوں میں ادا کرنا بھی درست ہے،لہٰذا اگر آپ کا بھائی مستحقِ زکات ہے تو آپ کا  اپنے بھائی کو قسطوں میں زکات دینا درست ہے، اس طریقے سے بھی زکات ادا ہوجاۓ گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه."

(کتاب الزکوۃ، 268،269،270/2،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"ففي ‌أي ‌وقت ‌أدى يكون مؤديا للواجب."

(کتاب الزکوۃ271/1،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101267
تاریخ05-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں