بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کے بغیر سنت اعتکاف

سوال

اگر کسی شخص نے روزے پورے نہیں رکھے تو کیا وہ اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے؟

جواب

رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف مسنون ہے، اور مسنون اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، روزہ کے بغیر مسنون اعتکاف صحیح نہیں ہوتا ؛لہذا  کوئی شخص    اعتکاف کے دنوں میں روزہ کسی عذر کی وجہ سے نہیں رکھ سکتا  تو اس کے لئے سنت اعتکاف میں بیٹھنا درست نہیں ، البتہ نفلی اعتکاف کی نیت سے اعتکاف کرسکتا ہے ، اس کا اجر وثواب ملے گا۔لیکن اگر شروع کے دنوں کے کچھ روزے چھوٹ  گئے ہیں اور اب اعتکاف کے  دنوں میں روزے رکھے گا تو اس صورت  میں   سنت اعتکاف کرسکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ومقتضى ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون؛ لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر، ينبغي أن لايصح عنه بل يكون نفلاً فلاتحصل به إقامة سنة الكفاية".

(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصوم ،باب الاعتکاف،442/2،ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101227
تاریخ05-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں