بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل، زچگی اور دودھ پلانے کے زمانہ میں روزہ رکھنا

سوال

زچگی کے دوران خواتین کے روزے قضا رکھنا ہوتے ہیں ؟ اور بچے کو دودھ پلاتے وقت روزے رکھنے ہیں یا نہیں ؟

جواب

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے، البتہ اگر   حاملہ عورت یا دودھ پلانے والی عورت  کو    ظنِ غالب ہو کہ روزہ رکھنے  کی صورت میں خود اس کی  یا   بچے کی صحت  کو خطرہ ہوسکتا ہے یا  کوئی  مسلمان، دین دار  ڈاکٹر   اس حالت میں ماں یا بچے کو  نقصان ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے   روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے  تو    ایسی صورت میں عورت کے لیے   حمل کی حالت میں  ،   زچگی کے دوران بچے کی ولادت سےپہلے اور دودھ پلانے کے زمانہ میں روزہ چھوڑنا جائز  ہوگا، باقی  بچہ کی ولادت کے بعد  نفاس (ولادت کےبعد آنے والے خون ) کے دنوں میں  عورت کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، ان  سب صورتوں میں   عذر ختم ہوجانے کے بعد،  ان روزوں کی بعد میں   قضا رکھنا لازم ہوگا۔

حدیث مبارک  میں ہے:

"عن أنس بن مالك، قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلى التي تخاف على نفسها أن تفطر، وللمرضع التي تخاف على ولدها."

(2/ 576، برقم :1668، باب ما جاء في الإفطار للحامل والمرضع، ط: دار الرسالة العالمية)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء".

(2/ 384، کتاب الصوم، ط:إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101222
تاریخ05-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں