بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چرس پینے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم

سوال

اگر ایک امام جو مفتی ہے،باقاعدگی کے ساتھ چرس پیتا ہے، چرس کا عادی ہے اور مسجد کے منبر پر بالله تالله اور والله كے ساتھ قسم کھا کے توبہ کیا ہو اور اس کے باوجود چرس پیتا ہو، مطلب چرس نہیں چھوڑ سکتا، کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟

جواب

چرس نشہ آور اشیاء میں سے ہے اور نشہ آور اشیاء کا استعمال شرعاً حرام ہے، لہذا چرس پینا ناجائز اور حرام ہے،اور جو حرام کا ارتکاب کرے وہ فاسق کے حکم میں  ہوتا ہے اور   اس کے پیچھے  نماز  مکروہ تحریمی  ہوتی ہے، لہذا اگر مذكورہ امام واقعۃً چرس پیتا ہے اور اس پر معتبر ثبوت موجود ہے تو اس  کے پیچھے  نماز ادا کرنا  مکروہ تحریمی  ہے۔

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"كره إمامة الفاسق، .... والفسق لغةً: خروج عن الاستقامة، وهو معنی قولهم: خروج الشيء عن الشيء علی وجه الفساد. وشرعاً: خروج عن طاعة اﷲ تعالی بارتكاب كبیرة. قال القهستاني: أي أو إصرار علي صغیرة. (فتجب إهانته شرعاً فلایعظم بتقدیم الإمامة) تبع فیه الزیلعي ومفاده كون الکراهة في الفاسق تحریمیة".

( ص 303، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101201
تاریخ04-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں