بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت میں بیٹھنے سے نماز کا حکم

سوال

 اگر امام چارفرض رکعات والی نمازمیں تیسری رکعت میں  سجدہ کرکےچوتھی رکعت کےلیےکھڑاہونےکےبجائےبیٹھ گیااورکسی مقتدی نےلقمہ دیاپھرامام چوتھی رکعت کےلیےکھڑاہوگیا،اب امام سجدہ سہوکرےگاکتنی مقدارنیچےبیٹھارہاتوسجدہ سہوکرناہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر امام اگر چار رکعت والی نماز کی تیسری رکعت میں   اتنی دیر بیٹھ جائے جس میں تین مرتبہ تسبیح پڑھی جاسکے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا ورنہ نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما بيان سبب الوجوب فسبب وجوبه ترك الواجب الأصلي في الصلاة، أو تغييره أو تغيير فرض منها عن محله الأصلي ساهياً؛ لأن كل ذلك يوجب نقصاناً في الصلاة فيجب جبره بالسجود، ويخرج على هذا الأصل مسائل، وجملة الكلام فيه أن الذي وقع السهو عنه لايخلو أما إن كان من الأفعال، وأما إن كان من الأذكار، إذ الصلاة أفعال وأذكار، فإن كان من الأفعال بأن قعد في موضع القيام أو قام في موضع القعود سجد للسهو لوجود تغيير الفرض، وهو تأخير القيام عن وقته، أو تقديمه على وقته مع ترك الواجب، وهو القعدة الأولى".

(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:164،دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101164
تاریخ04-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں