بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم کا طریقہ

سوال

 ہماری والدہ کا انتقال 30 جولائی 2022 کو ہوا تھا۔ والد  حیات ہیں۔ ہمارا گھر اور کچھ تولے سونا جو کے والدہ کی ملکیت ہیں ہم باہمی رضا مندی سے اس کی شرعی تقسیم کے بارےمیں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم 2 بھائی اور ایک بہن ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر وارثین صرف یہی ہوں(اور مرحومہ کے والدین موجود نہ ہوں  تو) مرحومہ  کے ترکہ   کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ  مرحومہ  کے ذمے  اگر کسی کا قرض ہو تو اسے کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد، اور مرحومہ  نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسےباقی مال کے  ایک تہائی ترکہ میں سے ادا کرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ ترکہ کو20 حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے شوہر کو 5 حصے، مرحومہ  کے ہر ایک  بیٹے کو  6،6 حصےاور مرحوم کی بیٹی کو 3 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہو گی:

مرحوم والدہ:20/4

شوہر بیٹا بیٹا بیٹی
1 3
5 6 6 3

یعنی سو فی صد میں سے شوہر کو 25 فی صد، ہر ایک بیٹے کو30،30 فی صد اور بیٹی کو 15 فی صد ملے گا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101131
تاریخ03-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں