بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

السلام علیکم کے بجائے اسلام علیکم کہنے کا حکم

سوال

السلام علیکم کے بجائے اسلام علیکم کہنا درست ہے یا نہیں اور اگر غلط ہے تو اس کا معنی کیا ہو جائے گا ؟

جواب

واضح رہےکہ سلام کرنا سنت ہے اور اس کامسنون طریقہ یہ ہے کہ ان الفاظ سے سلام کیا جائے"السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ"  یا صرف "سلام علیکم"  کہنا بھی کافی ہے،لیکن ”السلام علیکم“ کے بجائے ”اسلام علیکم“  سے سلام کی سنت ادا نہیں ہوگی،اور "اسـلَام علیکم" کا معنی ہے:آپ پر اسلام ہو،نیز "علی" کالفظ کبھی لازم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس اعتبار سے "علیکم" کا معنٰی "تم پر لازم ہے" سے بھی کیا جاسکتاہے،یہ جملہ نہ بد دعا ہے اور نہ ہی دعا ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولفظ السلام في المواضع كلها: السلام عليكم أو ‌سلام ‌عليكم بالتنوين، وبدون هذين كما يقول الجهال، لا يكون سلاما."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في البيع، ج:6، ص:416، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101105
تاریخ03-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں