بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوہا نام رکھنا

سوال

کیا سوہا نام رکھنا صحیح ہے،اور اس کا معنیٰ کیا ہے؟

جواب

سوہا، دراصل سنسکرت زبان کا ایک لفظ ہے جو کہ اردو میں مستعمل ہے،جس کے معنی ہیں: باریک قسم کا ریشمین یا سُوتی سُرخ رنگ کا کپڑا ،سرخ،لال رنگ اور کنایۃً  یہ لفظ، اچھا،خوب اورموزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے(اردو لغت، ص:٢١٦،٢١٧، ج:١٢)،لہٰذا یہ نام رکھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

البتہ بہتریہ ہے کہ    انبیاء علیہم السلام، صحابہ ،صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین،تابعین یا تابعات علیہم الرحمہ یا دیگر بزرگوں کے نام پر نام رکھا جائے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101083
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں