بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لفظ عرب اور اعراب کا وزن اور لغوی معنی

سوال

عرب کا اور اعراب کا وزن اور لغوی معنی کیا ہیں؟ 

جواب

(عَرَب)    کا وزن(فَعَل)ہے،اور اس  کا لغوی معنی ہے" سامی الاصل جزیرہنمائے عرب کے باشندے" ۔

(أَعْرَاب)کا وزن(أَفْعٰال)  ہے،اور اس  کا لغوی معنی ہے "دیہات کے رہنے والے عرب،بدو، جوبارشوں اور سبزہ والے مقامات میں سکونت پذیر ہوتے ہیں" ۔

المعجم الوسیط میں ہے:

"(العرب) أمة من الناس سامية الأصل كان منشؤها شبه جزيرة العرب.

"(الأعراب) من العرب سكان البادية خاصة يتتبعون مساقط الغيث ومنابت الكلإ."

(باب العين،ج:2،ص:591،ط: دار الدعوة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101077
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں