بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فدیہ دینے سے عاجز شخص کا حکم

سوال

اگر کوئی شیخ فانی روزے کی فدیہ دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر  کوئ  شیخ  فانی  فدیہ  ادا  کرنے  پر  بھی  قادر  نہ  ہو  تو  اس  کیلئے  حکم  یہ  ہے  کہ  جب  تک  روزو  ں  کی  قضاء  یا  فدیہ  دینے  پر  قدرت  نہ  ہوجائے ،اللہ  تعالی  سے  توبہ  و  استغفار  کرتا  رہے ۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار  میں  ہے  :

"(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبًا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرًا و إلا فيستغفر الله".

(ج نمبر ۲، ص نمبر ۴۲۷، مکتبہ و مطبعہ مصطفی الحلبی)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق   میں  ہے  :

"ولأن الفدية لاتجوز إلا عن صوم هو أصل بنفسه لا بدل عن غيره فجازت عن رمضان وقضائه والنذر، حتى لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر، لأنه استيقن أن لايقدر على قضائه وإن لم يقدر على الإطعام لعسرته يستغفر الله تعالی".

(ج نمبر ۲، ص نمبر ۳۰۸، دار الکتب الاسلامی)

فقط  واللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101070
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں