بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کا بازاری قیمت سے کم میں لین دین کرنا

سوال

 گھر میں  جو سونا ہے اگر بیچیں تو وہ اصل قیمت سے تھوڑا کم رقم دیتے ہیں ،وہ کہتے ہیں ہماری مزدوری ہے،  اس صورت میں بیچ سکتے ہیں سونا ،شرعی طور پر جائز ہے؟ جو مزدوری لیتے ہیں یہ ان کا حق ہے یا سود؟

جواب

واضح رہے کہ خرید و فرخت میں وہ قیمت معتبر ہوتی ہے جو عاقدین کے درمیان معاملہ کرتے وقت  طےہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر  بائع (سونا خریدنے والا     ) سونے کی بازاری قیمت سے کم میں خریدے  اور  فروخت کرنے والا اس قیمت پر فروخت کرنے پر راضی ہو،  تو اس میں کوئی حرج نہیں اور سائل کا اس طرح بیچنا جائز ہے  ۔

قران پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا "

(النساء:29)

فتاوی ھندیہ میں ہے

" واما تعریفہ ؛مبادلۃالمال بالمال بالتراضی"

(الھندیہ ج 3 ص2کتاب البیوع باب فی تعریف البیع ۔ط رشیدیہ) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409101023
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں