بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض میں دی ہوئی رقم میں فدیے کی ادائیگی کی نیت کرنا

سوال

قرض دار کو روزے کے فدیے میں قرض معاف کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ فدیہ ایک  عبادت ہے، جس کی ادائیگی کے لیے ادا کرنے سے قبل، یا ادا کرتے وقت شرعاً نیت کرنا ضروری ہوتاہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرسائل نے  ابتداءً کسی شخص کو قرض دیتے وقت  فدیے کی  نیت نہیں کی تھی ،تو اب فدیے کی ادائیگی کی نیت کرنے سےفدیہ ادا نہ ہوگا، بلکہ باقاعدہ نیت کے ساتھ  دوبارہ فدیہ دینا لازم ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع ‌بلا ‌نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير."

(کتاب الزکوۃ،268/2،ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100976
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں