بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کے حالت میں ناک پانی ڈالنے کا حکم

سوال

روزے کی حالت میں وضو کرتے وقت کتنا پانی ناک میں ڈالیں ،کہ وضو بھی ہو جاۓ ،اور روزہ بھی خراب نہ ہو؟

جواب

 روزے کی حالت میں وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنے میں  زیادہ مبالغہ  نہ کرے، اس طرح وضو بھی ہوجائے گااور روزہ بھی برقرار رہے گا۔اور اگر ناک میں پانی چلا جائے اور وہ حلق میں پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، اگر حلق میں نہ پہنچے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

سنن ترمذی میں ہے:

"قال: سمعت عاصم بن لقيط بن صبرة، عن أبيه، قال: قلت يا رسول الله، أخبرني عن الوضوء؟ قال: «‌أسبغ ‌الوضوء، وخلل بين الأصابع، وبالغ في الاستنشاق، إلا أن تكون صائما»."

(أبواب الصوم‌‌،باب ما جاء في كراهية مبالغة الاستنشاق للصائم، ج:3، ص:146، ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"أن الماء لا يسبق الحلق في المضمضة، والاستنشاق عادة إلا عند المبالغة فيهما، والمبالغة مكروهة في حق الصائم."

(‌‌كتاب الصوم، فصل أركان الصيام، ج:2، ص:91، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100907
تاریخ02-04-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں