بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال گزرنے سے پہلے زکوۃ دینا

سوال

سال گزرنے سے پہلے زکوۃ نکالنا کیسا ہے اس شخص کے لیے جو پہلی مرتبہ صاحب نصاب ہوا ہو؟ کیا کوئی شرط زائد ہے؟ جو پہلی مرتبہ زکوۃ نکال رہا ہے وہ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ نہیں دےسکتا؟

جواب

اگر کوئی  صاحب نصاب ہو(چاہے پہلی مرتبہ ہی مالک بنا ہو) تو وہ سال مکمل ہونے سے پہلے  زکوۃ نکالنا چاہے تو  نکال سکتاہے ، زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنه أن العباس رضي اللّٰہ عنه سأل رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ علیه وسلم في تعجیل صدقته قبل أن تحل، فرخص له في ذلك."

(باب ما جاء في تعجیل الزکاۃ،ج:3،ص:54،ط:مصطفي البابي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو عجل ذو نصاب زکاته لسنین أو لنصب صح لوجود السبب."

 (كتاب الزكوة،ج:2،ص:293،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100854
تاریخ31-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں