بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کے فرض اور تراویح پڑھنے کے بعد وتر سے پہلے حیض آجائے تو کیا حکم ہے ؟

سوال

 ایک عورت نے رمضان المبارک میں تراویح وغیرہ پڑھ کر وتر کو چھوڑا کہ تہجد کے بعد پڑھوں گی لیکن اس کو رات میں حیض کی بیماری شروع ہوگئی اور وتر ادا نہ کرسکی تو کیا اس پر وتر کی قضا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں وتر کی قضا واجب نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضه بقي من الوقت ما يمكن أن تصلي فيه أو لا. هكذا في الذخيرة.لو افتتحت الصلاة في آخر الوقت ثم حاضت لا يلزمها قضاء هذه الصلاة بخلاف التطوع. كذا في الخلاصة."

(کتاب الطهارة ،باب في الدماء المختصة  بالنساء ،الفصل الرابع  في احكام الحيض ،ج:1،ص:38،ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100741
تاریخ30-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں