بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کرنا

سوال

سترہ فروری2023 کو کسی بہن کے پاس نصاب کے برابر سونا آیا ،اگلے سال سترہ کو ہی زکوۃ اس پر فرض ہو گی ،معلوم یہ كرنا ہے کیا یہ بہن ایڈوانس میں زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

جواب

واضح رہے کہ  زکاۃ ادا کرنے میں قمری سال کا اعتبار ہوتا ہے اورقمری سال پورا ہونے سے پہلے زکاۃ ادا کرنے سے زکاۃ اداہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں ایڈوانس زکوۃ  ادا کرنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

بدائع الصنائع ميں هے:

"وأما حولان الحول فليس من شرائط جواز أداء الزكاة عند عامة العلماء، وعند مالك من شرائط الجواز فيجوز تعجيل الزكاة عند عامة العلماء."

(كتاب الطلاق،فصل حولان الحول هل هو من شرائط الزكاة، ج:2، ص:50، ط: دار الكتب العلمية)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ثم ما أوجب الله تعالى من التصدق بالمال مضافا إلى وقت يجوز تعجيله قبل ذلك الوقت كالزكاة بعد كمال النصاب قبل ‌حولان ‌الحول وصدقة الفطر قبل مجيء يوم الفطر فكذلك ما يوجبه العبد على نفسه."

(كتاب نوادر الصوم، ج:3، ص:129، ط: دار المعرفة بيروت)

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"قوله (وإن قدم الزكاة على الحول) أي أداها قبل ‌حولان ‌الحول (جاز) عندنا."

(كتاب الزكاة،ج:2، ص:204، ط: دار الفكر لبنان)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100725
تاریخ30-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں