بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں دانت ٹوٹنے سے نکلنے والا خون حلق میں چلا جائے تو روزے کا حکم

سوال

اگر روزے کی حالت میں دانت ٹوٹ جائے اور خون نکل کر حلق میں محسوس ہو تو ایسے میں روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب

روزے کی حالت میں دانت کے ٹوٹنے سے نکلنے والا خون اگر فقط حلق تک گیا ہو،اور حلق سے نیچے اتر کرپیٹ میں نہیں گیااور نہ ہی پیٹ میں جانا محسوس ہواہو،تو اس سے روزے نہیں ٹوٹے گا، چاہے خون کم ہو یا زیادہ ہو۔

البتہ اگر خون پیٹ تک چلاجائےاور اس کا مزہ بھی محسوس ہوا ہو، تو اس سےبہرصورت روزہ ٹوٹ جائے گا،اور اگر حلق سے نیچے اتر کرپیٹ تک گیا ہو،لیکن خون کا مزہ محسوس نہ ہوا ہو،تودیکھا جائے گا کہ خون زیادہ ہے یا کم؟اگر خون زیادہ ہے،اور تھوک پر غالب ہےتوروزہ ٹوٹ جائےگا،بصورتِ دیگر یعنی  خون مغلوب ہوتو روزہ نہ ٹوٹے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو خرج الدم من بين أسنانه ‌ودخل ‌حلقه) يعني ولم يصل إلى جوفه أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا .

وفي الرد:  (قوله: يعني ولم يصل إلى جوفه) ظاهر إطلاق المتن أنه لا يفطر وإن كان الدم غالبا على الريق وصححه في الوجيز كما في السراج وقال: ووجهه أنه لا يمكن الاحتراز عنه عادة فصار بمنزلة ما بين أسنانه وما يبقى من أثر المضمضة كذا في إيضاح الصيرفي. اهـ ."

(كتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2، ص:296،ط:سعيد)

احسن الفتاوی میں ہے:

"خون اگر صرف حلق میں گیا مگر پیٹ میں نہیں پہنچا، تو روزہ نہیں ٹوٹا، اور اگر خون مغلوب ہو، یعنی تھوک کا رنگ سُرخ کے بجائے رزد ہوتو پیٹ میں جانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ خون مغلوب ہونے کے باوجود حلق میں اس کا مزہ محسوس ہوتو پیٹ میں جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا،اسی طرح خون غالب ہو یعنی تھوک سرخ ہوتو پیٹ میں جانے سے روزہ جاتا رہے گا اگر چہ مزہ محسوس نہ ہو۔"

(کتاب الصوم، ج:4، ص:447، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100688
تاریخ30-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں