بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف خیالات کی وجہ سے مذی آنے کی صورت میں روزہ کا حکم

سوال

 زید نے بیوی سے بوس و کنار نہیں کیا، صرف غلط خیالات اپنے ذهن میں لایا تھا ، اوران خیالات کوسوچنے کی وجہ سے رطوبت نکل گئی، تو کیا روزہ فاسد ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب زید نے بیوی کو چھوا نہیں ،اورکسی قسم کا  بوس وکنار بھی نہیں کیا ،بلکہ صرف خیالات کو سوچنے کی وجہ سے مذی نکل گئی یا  انزال ہوگیا تو ایسی صور ت میں روزہ فاسد نہیں ہوا، البتہ  روزہ  کی حالت میں خاص طور پر  اس قسم کے خیالات سے  بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو احتلم أو أنزل بنظر) ولو إلى فرجها مرارا (أو بفكر) وإن طال مجمع۔۔۔(لم يفطر) جواب الشرطـ"

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:2،ص:396،ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا نظر إلى امرأة بشهوة في وجهها أو فرجها كرر النظر أولا لا يفطر إذا أنزل كذا في فتح القدير، وكذا لا يفطر بالفكر إذا أمنى هكذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصوم ،الباب الرابع،ج:1،ص:204،ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے
"(قوله: أو احتلم أو أنزل بنظر) أي لا يفطر لحديث السنن «لا يفطر من قاء، ولا من احتلم، ولا من احتجم» ولأنه لم يوجد الجماع صورة لعدم الإيلاج حقيقة، ولا معنى لعدم الإنزال عن شهوة المباشرة."

(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ،ج:2،ص:293،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100615
تاریخ29-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں