بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تراویح چھوڑنے یا آٹھ رکعت پڑھنے سے گناہ ہوگا؟

سوال

اگر کوئی شخص کسی وجہ سے نماز تراویح نہ پڑھ سکے تو کیا اس کو گناہ ہو گا یا اگر کوئی شخص آٹھ تراویح پڑھ لے اور باقی کی نہ پڑھے کیا اس کو گناہ ہو گا؟

جواب

 بیس رکعت تراویح کی نماز بالاجماع سنتِ مؤکدہ نماز ہے،اور سنت مؤکدہ کو بلا عذر چھوڑنے  کی عادت بنانےوالا گناہ گار ہوتا ہے ،اور اگر عذر کی وجہ سے سنت مؤکدہ چھوٹ جائےتو گناہ نہیں ہوتا ہے،لہذا اگرپوری  تراویح کی نمازیا بقیہ بارہ رکعتیں اگر کسی عذر(بیماری،سفر شرعی وغیرہ) کی وجہ سے رہ گئی  تو گناہ نہیں ،لیکن اگر مستقل طور پر بلاعذ ر محض  سستی یا غفلت کی وجہ سے پوری تراویح یا بقیہ بارہ رکعتوں کے چھوڑنے کو عادت بنالے تو گناہ ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(التراويح سنة) مؤكدة؛ لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعاً."

(کتاب الصلاۃ،باب الوتر والنوافل،ج:2،ص:43،ط: سعید)

مرقاةاالمفاتیح   میں ہے:

’’لكن أجمع الصحابة علی أن التراويح عشرون ركعةً."

(كتاب الصلاة، باب قيام شهر رمضان،ج:3،ص:973، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100536
تاریخ28-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں