بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں احتلام ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر  روزے کی حالت میں ظہر کی نماز کے بعد سونے کی وجہ سے غسل فرض ہو جائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر روزہ دار کو سونے کی حالت میں احتلام ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ روزہ صحیح ہے، البتہ جتنا جلدی ہوسکے غسل کرلے ، بلاوجہ غسل میں تاخیر نہ کرے ،تاکہ روزے کا زیادہ سے زیادہ وقت پاکی میں گزرے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے گناہ ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

'(أو احتلم أو أنزل بنظر) ........ (لم يفطر)، جواب الشرط'.

(کتاب الصوم، ج: ۲، ص: ۳۹۶، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100480
تاریخ28-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں