بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائیداد میں زکات کاحکم

سوال

 ہم ۹ بہن بھائی ہیں،   جس میں سے صرف بڑے بھائی کی شادی ہوئی ہے اور باقی سب غیر شادی شدہ  ہیں  اور ہمارے پاس بیلنس 50 لاکھ ہے  ، جو ہمارے والد مرحوم کو پینشن  میں ملا تھا اور اس سے ہم نے ایک جائیداد منافع کے لیے لی تھی ، پچھلے دو سال سے نہیں بک رہا اور ہم نے دو سال زکات بھی ادا کی ، اس جائیداد پر اب ہم اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ  دوسرے بھائی کی شادی کروائیں ، کیا اب بھی ہم پر زکات دینا لازمی ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب مذکورہ جائیداد  تجارت کی نیت سے خریدی ہے  تو اس پر زکات کا حکم یہ ہے کہ  جب تک اسے بیچنے کی نیت باقی ہے اورتقسیم کرنے کی صورت میں ہر ایک کی ملکیت چاندی کے نصاب سے زائد ہوتی ہو تو  اس صورت میں سبِ  صاحب نصاب ہیں، اور نصاب پر سال گزرنے کے بعد سب پر زکات واجب ہوگی، ورنہ واجب نہیں ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"او عرض تجارة قيمته نصاب من ذهب أو ورق".

(کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃالمال 2 /298  ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي)...(تام) (و) فارغ (عن حاجته الأصلية)".

(كتاب الزكاۃ 2 /259  /262 ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم".

(کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃالمال 2 /295 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100409
تاریخ27-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں