بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر اور نفل نماز کی قضا کا حکم

سوال

وتر کی قضا ادا کرتے ہوئے تہجد والے دو نوافل بھی ادا کرنے ہوں گے؟

جواب

وتر کی نماز واجب ہے، واجب نماز جب فوت ہوجائے تو اس کی قضا کرنالازم ہے،تہجد کی نماز نفل ہے اور نوافل کی قضا نہیں ہوتی ،   لہذا اگر وتر کی نماز قضا ہوگئی تو  صرف وتر کی قضا ہی لازم ہے،وترکے بعد تہجد کی نیت سے پڑھے جانے والے نوافل کی قضا نہیں ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"(وغير الفرائض ‌الخمس ‌والوتر لا يقضى أصلا) أي لا في الوقت ولا بعده ولا وحدها بالاتفاق ولا بتبعية فرائضها."

(كتاب الصلاة، باب الوترو النوافل،  ج:١، ص:١٤٢، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

وفیہ ایضاً:

"(ويلزم إتمام نفل شرع فيه قصدا) حتى لو نقضه يجب قضاؤه."

(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:١، ص: ١٣٢، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100379
تاریخ27-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں