بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا یہ کہنا درست ہے کہ نماز کا چھوڑنا اتنا بڑا گناہ نہیں اور دعوت کا چھوڑنا اس سے بڑا ہے؟

سوال

"نماز کا چھوڑنا اتنا بڑا گناہ نہیں جتنا بڑا گناہ دعوت اللہ کا چھوڑنا ہے"،یہ جملہ کہنا کہاں تک درست ہے؟  اس کی کوئی واضح دلیل ہے ،ہمارے اکثر دعوت و تبلیغ میں لگے ساتھی اس جملہ کو استعمال کرتے ہیں، برائے مہربانی اس کی مستند حوالہ کے   ساتھ  وضاحت  فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ پانچ وقت کی نماز  ہر مسلمان پر فرض عین ہے،جب کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر   یا دعوت الی اللہ فرض کفایہ ہے جو مختلف شکلوں میں امت میں موجود ہے،اس لیے مذکورہ جملہ نماز کا چھوڑنا اتنا بڑا گناہ نہیں جتنا دعوت الی اللہ کو چھوڑنا ہے شرعًا صحیح نہیں  ہے،اور حقیقتًا  دعوت کی محنت کا مقصود بھی یہی ہے کہ لوگ نمازی بن جائیں، تو  یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ نماز جو اصل مقصود ہے اسے چھوڑنا کم گنا ہ ہو اور دعوت کا چھوڑنا بڑا گناہ ہو۔

تفسیر مظہری  میں ہے:

﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾      [آل عمران: 104] 

"وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ من للتبعيض لان الأمر بالمعروف والنهى عن المنكر من فروض الكفاية ولانه لا يصلح له كل أحد حيث يشترط له شروط من العلم والتمكن على الاحتساب وطلب من الجميع خاطب الجميع وطلب فعل البعض ليدل على انه واجب على الكل حتى لو ترك الكل أثموا جميعا ولكن يسقط بفعل بعضهم وهذا شأن فروض الكفاية."

(سورة آل عمران: 104، ج2ق1، ص113/114، مكتبة الرشدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100376
تاریخ27-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں