بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تہجد کی نماز باجماعت پڑھنا

سوال

تہجد باجماعت پڑھنا حدیث کی روشنی میں کیسا ہے؟

جواب

تہجد کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے، لہذا انفرادی طور پر پڑھے۔

حلبی کبیر میں ہے:

"واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه."

(تتمات من النوافل ص: 432 ط: سهيل اكيڈمي)

درالمختار میں ہے:

"(ولا يصلي الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك  على سبيل التداعي، بأن يقتدي أربعة بواحد."

(کتاب الصلوۃ , باب الوتر و النوافل جلد 2 ص: 48 , 49 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100364
تاریخ27-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں