بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سمیر الرحمن اور عیاذ الرحمن نام رکھنا

سوال

کیا میں اپنے بیٹے کا نام سمیر الرحمن یا عیاذ الرحمن رکھ سکتا ہوں؟

جواب

’’سمیر‘‘ (س کے زبر کے ساتھ ) اس کے معنی رات میں کہانی سنانے والے کے ہیں، اس لحاظ سے سمیر الرحمن نام رکھنا درست نہیں ہے ۔

البتہ ’’سُمیر‘‘(س کے پیش کے ساتھ )یہ نام رکھ سکتے ہیں، بعض صحابہ کرامؓ کااسمائے گرامی یہی تھا۔

’’عیّاذ‘‘(ی کی تشدید کے ساتھ ) اس کے معنی ہیں ،شدت کے ساتھ پناہ مانگنے والا ، اس لحاظ سے عیّاذ الرحمن  نام رکھ سکتے ہیں۔ 

الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے :

"سمير بن زهير له ذكر في ترجمة عائذ بن سعد وروى بن منده من حديث عائذ بن سعد قال وفدنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سمير يا رسول الله أن أخي سلمة بن زهير خرج مهاجرا إلى الله ورسوله."

(ج:3،ص؛185،ط:دارالجیل بیروت )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100341
تاریخ27-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں