بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کے دوران حفظ کرنے کا حکم

سوال

کیا حیض کے دوران حفظ کیا جا سکتا ہے؟ جب کہ  طالبہ عام دنوں میں بھی حفظ کر رہی ہوں۔

جواب

 ایامِ حیض میں خواتین کے لیے قرآنِ کریم کو  بلاحائل چھونا اور اُس کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر بھولنے کا اندیشہ ہو اور پڑھنا ضروری ہو تو ایک ایک کلمہ کرکے پڑھ لینا جائز ہے، ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کپڑے وغیرہ سے قرآن مجید کو کھول کر اس میں دیکھتی رہے، اور دل دل میں ہی دہراتی رہے، زبان سے تلفظ نہ کرے، تاہم ان کے لیے حیض کی حالت میں زبان سے  عام حالات کی طرح ملاملا کر قرآن کریم پڑھنا جائز نہیں۔

حدیث شریف میں ہے:

"وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌تقرأ ‌الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن» . رواه الترمذي."

(مشكاة المصابيح، باب مخالطة الجنب، الفصل الثاني،جلد:1، صفحہ:143، طبع: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:" حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما راوی ہےکہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "حائض(ایام والی عورت)اورجنبی قرآن کریم کاکچھ حصہ بھی نہیں پڑھیں"۔(از مظاہرِ حق)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن) ولو دون آية على المختار (بقصده) فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمة حل في الأصح"

"(قوله: ‌ولو ‌دون ‌آية) أي من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمة كلمة."

(كتاب الطهارة، جلد:1، صفحہ: 172، طبع: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100199
تاریخ25-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں