بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کا نصاب

سوال

فطرہ کا نصاب کیا ہوگا؟

جواب

 صدقہ فطر  کا نصاب   یہ ہے کہ جس مسلمان مرد و عورت کے پاس  عید الفطر  کی صبح صادق کے وقت ضرورت سے زائد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نقدی یا مالِ تجارت ہو یا  اپنی ضروریات سے زائد اتناسامان ہو جس  کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے تو اس پر  صدقہ فطر واجب ہے،چاہے اس مال پر سال گزرا ہو یا نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(تجب).......(على كل) حر (مسلم)......(ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم)."

(کتاب الزکوۃ،باب صدقة الفطر،358،59،60/2،ط:سعید)

ہدایہ میں ہے:

"صدقة الفطر واجبة علی کل الحر المسلم، إذا کان مالکا لمقدار النصاب، فاضلا عن مسکنه، و ثیابه، و أثاثه، و فرسه، و سلاحه، و عبیدہ."

 (كتاب الزكوة،باب صدقة الفطر،224/1، ط:رحمانیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100152
تاریخ25-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں