بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا چاند سے حیاء کرنا، واقعہ کی تحقیق

سوال

اس واقعہ کی کیا حقیقت ہے؟

ایک دفعہ چاند کی پہلی تاریخ تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا تشریف لائی تھیں۔ پوچھا: فاطمہ! کیا تم نے چاند دیکھاہے؟ عرض کیا: اے اللہ کے نبی !میں نے چاند نہیں دیکھا۔ فرمایا:بیٹی! تم نے کیوں نہیں دیکھا؟ وہ خاموش ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، اس کی کیا وجہ تھی؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا: اے ابا جان! میرے دل میں خیال آیا کہ آج پہلی کا چاند ہے، سب لوگ چاند کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، اگر میں بھی دیکھوں گی تو میری نگاہیں اور غیر محرم مردوں کی نگاہیں چاند کے اوپر اکٹھی ہوں گی۔ میں نے اس بات کو شرم و حیا کے خلاف پایا، اس لیے میں نے آج چاند نہیں دیکھا۔

جواب

کافی تلاش  كے با وجود  ہمیں یہ واقعہ کتب احادیث و تواریخ میں نہیں مل سکا، لہذا جب تک کوئی معتبر سند نہ مل جائے، اسے بیان کرنے سے احتراز کیا جائے۔ 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100134
تاریخ25-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں