بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امداد کے لیے تنخواہ میں سے کٹوتی کو زکاۃ شمار کرنا

سوال

حکومت آزاد کشمیر نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے پانچ دن کی تنخواہ کاٹ کر ترکی میں زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے دی ہے۔کیا اس کٹوتی کی رقم کو زکوۃ میں شمار کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ ایک عبادت ہے اور دیگر عبادات کی طرح اس کی ادائیگی یا الگ کرکے رکھتے وقت نیت کرنا شرط ہے ،اور بغیر نیت کے زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔لہذا صورت مسئولہ میں جب حکومت آزاد کشمیر نے ملازمین کی تنخواہوں میں سے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے کٹوتی کی تھی ،تو اس وقت ان ملازمین کی زکوۃ کی نیت نہیں تھی لہذا اب اس کٹوتی کو زکوۃ میں  شمار کرنا جائز نہیں ہے۔،نیز حکومت کا مصارف زکوۃ میں خرچ کرنا بھی یقینی نہیں ہے،اس لیے اپنے طور پر زکوۃ ادا کی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية

(قوله مقارنة) هو الأصل كما في سائر العبادات، وإنما اكتفي بالنية عند العزل كما سيأتي لأن الدفع يتفرق فيتخرج باستحضار النية عند كل دفع فاكتفى بذلك للحرج بحر، والمراد مقارنتها للدفع إلى الفقير، وأما المقارنة للدفع إلى الوكيل فهي من الحكمية كما يأتي."

(کتاب الزکاۃ ،ج:2،ص:268،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100133
تاریخ25-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں