بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ کی عدت وضع حمل ہے

سوال

میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، لیکن ان کی تدفین کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں پیٹ سے ہوں پر ان کی زندگی میں اس کا علم ہمیں نہیں تھا تو میری عدت کیا ہوگی وضع حمل ہوگی یا کچھ اور ؟

جواب

صورت مسؤلہ میں جبکہ آپ کو    حمل کا علم بعد میں ہوا کہ یہ حمل شوہر سے ہے  تو اس صورت میں آپ کی عدت وضع حمل ہی ہے۔

فتاوی شامی   میں ہے:

"(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)۔"

(كتاب الطلاق، باب العدة: 3 /511، ط: سعید)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100090
تاریخ25-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں