بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے چاند کا اعلان تاخیرسے ہونے کی صورت میں تراویح کا حکم

سوال

رمضان کے چاند کا اعلان تاخیر سے ہونے کی صورت میں تراویح کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز تراویح کا وقت نماز عشاء سے طلوع فجر تک ہے ، لہٰذاصورت مسئولہ میں چاند کااعلان تاخیرسے ہونے کی صورت میں  نمازعشاء کےبعد طلوع فجر تک اس دوران میں  کسی بھی وقت نمازتراویح ادا کرنا صحیح  ہے،البتہ اگر کسی نےغفلت یالاعلمی  کی بنا پر ادا نہیں کی ہو تو فوت شدہ تراویح کی قضا  لازم نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ووقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح."

(كتاب الصلاة، باب الوتروالنوافل، ج:2، ص:43، ط: سعيد)

ایضاً:

"(ولا تقضى إذا فاتت أصلا)ولا وحده في الأصح  فإن قضاها كانت نفلا مستحبا وليس بتراوح كسنة مغرب وعشاء."

(كتاب الصلاة، باب الوتروالنوافل، ج:2، ص:44، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100018
تاریخ23-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں