بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی قضا نماز میں پہلے سنتیں ہیں یا فرض؟

سوال

ایک شخص فجر کی نماز وقت کے بعد پڑھے تو اسے پہلے سنت پڑھنا چاہیے یا فرض؟

جواب

 واضح رہے کہ عام سنتوں کی قضا نہیں ،البتہ  صرف فجر کی سنتوں کی قضا  ہے جب وہ دورکعت  فرض سمیت رہ جائےاور اس  کو زوال سے پہلے اداکیاجائے،لہذا جس طرح  وقت کےاندرپہلے سنتیں ہیں پھر فرض،  اسی طرح  قضا میں بھی سنتیں پہلے ہوگی اور فرض اس کے بعد اداکی جائےگی ۔ ملحوظ رہے کہ اگر کسی کی صرف فجر کی سنتیں رہ جائیں  اور وہ فرض نماز پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ اشراق کا وقت ہوجانے  کے بعد اسی دن زوال سے پہلے پہلے فجر کی 

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولايقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل".

(باب ادراک الفریضة، 57/2، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144409100006
تاریخ23-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں