بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز تراویح کی کل تعداد

سوال

نماز تراویح کی کل تعداد کتنی ہے ؟

جواب

 تراویح کی بیس رکعات  ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے ۔ نیز  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ امامت بھی فرمائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس اندیشہ سے  جماعت  کے ساتھ ادا کرنا  ترک کردیا کہ کہیں یہ نماز امت پر  فرض نہ ہوجائے اور صحابہ کرام کو اپنےاپنے گھروں میں انفرادی طور پر نماز پڑھنے کی تاکید فرمادی اور خود بھی وفات تک اس کو گھر میں ہی پڑھتے رہے ۔

چنانچہ  مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنه: أن النبي صلي الله عليه وسلم يصلي في رمضان عشرين ركعةً سوی الوتر".

(كتاب صلاة التطوع و الإمامة وأبواب متفرقة، كم يصلي في رمضان ركعة ٢/ ٢٨٦، ط: طیب اکیدمي ) 

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے،لیکن  یہ حدیث صحیح  اور قوی ہے ،اس کی صحت اور قوت کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین،ائمہ مجتہدین اور تمام امت نے اسے قبول کیا ہےاور اس پر سب کا اجماع ہوچکا ہے ،چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باجماعت بیس رکعت تراویح کا اہتمام مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کروایا تو ان پر کسی نے نکیر نہیں کی، بلکہ تمام صحابہ  کرام نے باجماعت تراویح کے اہتمام پر اتفاق کیا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کابیس رکعات پراتفاق یعنی اجماعِ صحابہ اس بات کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح بیس رکعات ہی پڑھائی ہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102664
تاریخ22-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں