بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند کا اعلان تاخیر سے ہونے کی صورت میں تراویح نہیں پڑھی تو کیا حکم ہے؟

سوال

 رمضان المبارک کے چاند کا  (تاخير سے) اعلان ہوا اور تروایح نہیں پڑھی ، اس کا شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟

جواب

تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد  شروع ہوتا ہے اور صبح صادق ہونے تک رہتا ہے،  لہذا  رمضان المبارک  کے چاند کا اعلان تاخیر سے ہونے کی صورت میں اگر تراویح   کا وقت باقی تھا تو  تراویح کی نماز ادا کرنی چاہیے تھی ؛ کیوں کہ تراویح  کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیےسنت مؤکدہ ہے،  بہر صورت  اگر تراویح وقت کے اندر ادا نہیں کی تو اس پر توبہ واستغفار کریں،تاہم  اس کی قضا لازم نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وقال عامتهم: وقتها ما بعد العشاء إلى طلوع الفجر فلا تجوز قبل العشاء؛ لأنها تبع للعشاء فلا تجوز قبلها كسنة العشاء ."

(1 /  288، کتاب الصلاۃ، فصل في سنن صلاة التراويح، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102663
تاریخ22-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں