بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیکٹری یا شادی ہال کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکات

سوال

ایک شخص نے کمرشل پلاٹ خریدا ہے اور اس کی نیت یہ ہے کہ اس پر فیکٹری یا شادی ہال بناؤں گا ،اس پلاٹ کی مالیت تقریباً پانچ کروڑ ہے کیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ ہوگی؟

جواب

مذکورہ پلاٹ چونکہ  بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا،اس لیے اس کی مالیت پرزکات واجب نہیں،البتہ آئندہ فیکٹری  یا شادی ہال سے حاصل آمدن پر زکات کی شرائط پائے جانے پر زکات واجب ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صفة هذا النصاب فهي أن يكون معدا للتجارة وهو أن يمسكها للتجارة وذلك بنية التجارة مقارنة لعمل التجارة."

(كتاب الزكاة،فصل أموال التجارة،فصل صفة الواجب في أموال التجارة،ج2،ص21،ط:مطبعة شركة المطبوعات العلمية)

الدر المختار  ميں هے :

"والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة."

(کتاب الزکات،‌‌باب السائمة،ص128،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144408102590
تاریخ22-03-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں